خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سِرِّ زندگانی ہے نکل کر حلقۂ شام و سحَر سے جاوداں ہو جا
شرح غافل وہ ہے جو اپنی حقیقت سے بے خبر ہو۔ اقبال اسے پکارتے ہیں کہ خودی میں ڈوب جا کیونکہ زندگی کا بھید یہی ہے۔ ڈوبنا یہاں گہرائی میں اترنے کا استعارہ ہے، سطحی زندگی سے نکل کر اپنے باطن کی تہ تک پہنچنا۔ دوسرا مصرع اقبال کے فلسفۂ وقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حلقۂ شام و سحر وہ وقت ہے جو گھڑی سے ناپا جاتا ہے، دن رات کا چکر جس میں انسان قید رہتا ہے۔ تشکیلِ جدید کے دوسرے خطبے میں اقبال اسی ناپے جانے والے وقت اور خالص دوام میں فرق کرتے ہیں، اور مسجدِ قرطبہ میں "سلسلۂ روز و شب" کا ذکر اسی پس منظر میں ہے۔ جو خودی میں ڈوب جاتا ہے وہ اس چکر سے بلند ہو کر دوام کا حصہ بن جاتا ہے۔
کتاب: بانگِ درا | منظومات، حصّہ سوم | نظم: طلوعِ اسلام