⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-18_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ جب مکہ کے مشرکین نے دیکھا کہ حبشہ جانے کا بھی کچھ فائدہ نہ نکلا تو انہوں نے کہا آؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے تو لالچ دیں، پھر دھمکی دیں، کسی طرح تو مان ہی جائیں گے، یہ مشورہ کرکے مکہ کا مشہور مالدار سردار جس کا نام عتبہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے یوں تقریر کی:-*
*"_ میرے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر تم اس کارروائی سے مال و دولت جمع کرنا چاہتے ہو تو ہم خود ہی تمہارے پاس اتنی دولت جمع کر دیتے ہیں کہ تم مالامال ہو جاؤ، اگر تم عزت کے بھوکے ہو تو اچھا ہم سب تم کو اپنا رئیںس مان لیتے ہیں، اگر حکومت کی خواہش ہے تو ہم تم کو بادشاہ عرب بنا دیتے ہیں، جو چاہو سو کرنے کو حاضر ہیں مگر تم اپنا یہ طریقہ چھوڑ دو اور اگر تمہارے دماغ میں کچھ خلل آگیا ہے تو بتلا دو کہ ہم تمہارا علاج کرائیں_,*

*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- جو کچھ تم نے میری بابت کہا وہ ذرا بھی صحیح نہیں، مجھے مال، عزت، دولت حکومت کچھ درکار نہیں اور میرے دماغ میں خلل بھی نہیں، میری حقیقت تم کو قرآن کے اس کلام سے معلوم ہو گی:- (ترجمہ ) یہ فرمان اللہ کے حضور سے آیا، وہ بڑی رحمت والا اور نہایت رحم والا ہے، یہ بڑی پڑھی جانے والی کتاب ہے، عربی زبان میں سمجھدار لوگوں کے لئے اس میں سب باتیں کھلی کھلی درج ہیں جو لوگ اللہ کا حکم مانتے ہیں، ان کے واسطے اس فرمان میں بشارت ہے اور جو انکار کرتے ہیں ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرانا ہے، تاہم بہت سے لوگوں نے اس فرمان سے منہ موڑ لیا ہے وہ اسے سنتے ہی نہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا ہمارے دل پر کوئی اثر نہیں اور ہمارے کان اس کے شنوا نہیں اور ہم میں اور تم میں ایک طرح کا پردہ پڑا ہے، تم اپنی( تدبیر) کرو, ہم اپنی (تدبیر) کر رہے ہیں اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں بھی تمہی جیسا بشر ہوں، مگر مجھ پر وحی آتی ہے اور اللہ کے فرشتے نے یہ بتلا دیا کہ سب لوگوں کا معبود صرف ایک ہے، اسی کی طرف متوجہ ہونا اور اسی سے گناہوں کی معافی مانگنا لازم ہے، ان لوگوں پر افسوس ہے جو شرک کرتے ہیں اور صدقہ نہیں دیتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں، لیکن جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے، ان کے لیے آخرت میں بڑا اجر ہے _,*

*❀_ کلام پاک کے سننے سے عتبہ پر ایک محویت کا عالم طاری ہوگیا، وہ ہاتھوں پر سہارا دیے گردن پشت پر ڈالے ہوئے سنتا رہا اور بالآخر چپ چاپ اٹھ کر چلا گیا، قریش جو نتیجہ ملاقات معلوم کرنے کے مشتاق بیٹھے تھے، سردار عتبہ کے پاس جمع ہوگئے، پوچھا -کیا دیکھا ؟ کیا کہا؟ کیا سنا ؟عتبہ بولا :- معشر قریش ! میں ایسا کلام سن کر آیا ہوں جو نہ کہانت ہے نہ شعر ہے، نہ جادو نہ منتر ہے، تم میرا کہا مانو، میری رائے پر چلوں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حال پر چھوڑ دو_,*
*"_ لوگوں نے یہ سن کر کہا:- لو ! عتبہ پر بھی محمد صل اللہ علیہ وسلم کی زبان کا جادو چل گیا_,*

*❀_ جب لالچ کی تدبیر نہ چلی تب سارے قبیلوں کے سردار اکھٹے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تایا ابو طالب کے پاس آکر یوں تقریر کی:- ہم نے آپ کا بہت ادب کیا, آپ کا بھتیجا ہمارے ٹھاکرو اور بتوں کو جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے آئے، اتنا سخت ست کہنے لگا ہے کہ ہم صبر نہیں کر سکتے، آپ اسے سمجھا کر چپ رہنے کی ہدایت کریں' ورنہ ہم اسے جان سے مار ڈالیں گے اور تم اکیلے ہم سب کا کچھ نہیں کر سکو گے_,*
*"_سارے ملک کی عداوت دیکھ کر تایا کا دل درد اور محبت سے بھر گیا, انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور سمجھایا کہ بت پرستی کا رد نہ کیا کرو، ورنہ میں بھی تمہاری کچھ حمایت نہیں کر سکوں گا _,*

*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- تایا ! اگر یہ لوگ سورج کو میرے داہنے ہاتھ پر لا رکھیں اور چاند کو بائیں ہاتھ پر، تب بھی میں اپنے کام سے نہ ہٹوں گا اور اللہ کے حکم میں سے ایک حرف بھی کم و بیش نہ کروں گا، اس کام میں خواہ میری جان بھی جاتی رہے_,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*

Comments

Be the first to add a comment