⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-24_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀__ مختلف مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغ کے لیے جانا:- مکہ میں واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اب ایسا کرنا شروع کیا کہ مختلف قبیلوں کی سکونت گاہوں میں تشریف لے جاتے یا مکہ سے باہر چلے جاتے اور جو کوئی مسافر آتا جاتا مل جاتا اسے ایمان اور اللہ پرستی کا وعظ فرماتے، انہی ایام میں قبیلہ بنو کندہ میں تشریف لے گئے، سردار قبیلے کا نام ملیح تھا، نیز قبیلہ عبداللہ کے ہاں بھی پہونچے، انہیں فرمایا کہ تمہارے باپ کا نام عبداللہ تھا، قبیلہ بنو حنیفہ کے گھروں میں تشریف لے گئے، انہوں نے سارے عرب بھر میں سب سے بدتر طریق پر نبی صل اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا،*
*❀_ قبیلہ بنو عامر بن صعصعہ کے پاس گئے، سردار قبیلہ کا نام بحیرہ بن فراس تھا، اس نے دعوت اسلام سن کر نبی صل اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :- بھلا اگر ہم تیری بات مان لیں اور تو مخالفین پر غالب آ جائے تو کیا تو یہ وعدہ کرتا ہے کہ تیرے بعد یہ امیر ( نبوت) مجھ سے متعلق ہوگا, نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے، وہ جسے چاہے گا میرے بعد اسے مقرر کرے گا، ‌ بحیرہ بولا:- خوب ! اس وقت تو عرب کے سامنے سینہ سپر ہم بنے اور جب تمہارا کام بن جائے تو مزے کوئی اڑائے، جاؤ ہم کو تیرے کام سے کچھ سروکار نہیں، قبائل کے سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے _،,*

*❀_ سوید بن صامت رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا:- انہیں ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سوید بن صامت رضی اللہ عنہ ملے، ان کا لقب اپنی قوم میں کامل تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعوت اسلام فرمائی، وہ بولے - شاید آپ کے پاس وہی کچھ ہے جو میرے پاس بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:- تمہارے پاس کیا ہے ؟ وہ بولے:- حکمت لقمان_,"*
*"_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- بیان کرو _," انہوں نے اپنے کچھ عمدہ اشعار سنائے, نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- یہ اچھا کلام ہے، لیکن میرے پاس قرآن جو اس سے افضل تر ہے اور ہدایت اور نور ہے، اور وہ قرآن سن کر اسلام لے آئے، جب یثرب لوٹ کر گئے تو قوم خزرج نے انہیں قتل کر ڈالا _,"* *( طبری 232)*

*❀_ سفارت یثرب میں تبلیغ فرمانا، ایاس بن معاذ کا راہ یاب ہونا:- انہیں ایام میں ابوالحیثر انس بن رافع مکہ آیا، اس کے ساتھ بنی ابدالاثہل کے بھی چند نوجوان تھے، جن میں ایاس بن معاذ بھی تھے، یہ لوگ قریش کے ساتھ اپنی قوم خزرج کی طرف سے معاہدہ کرنے آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور جا کر فرمایا:- ‌ میرے پاس ایسی چیز ہے جس میں تم سب کی بہبود ہے, کیا تمہیں کچھ رغبت ہے ؟ وہ بولے- ایسی کیا چیز ہے؟ فرمایا:- میں اللہ کا رسول ہوں، مخلوق کی طرف مبعوث ہوں، بند گانے الہی کی دعوت دیتا ہوں کہ اللہ ہی کی عبادت کریں اور شرک نہ کریں، مجھ پر اللہ نے کتاب نازل کی ہے_,"*
*❀_ پھر ان کے سامنے اسلام کے اصول بیان فرمائے اور قرآن مجید بھی پڑھ کر سنایا, ایاس بن معاذ جو ابھی نوجوان تھے سنتے ہی بولے :- اے میری قوم ! باخدا یہ تمہارے لئے اس مقصد سے بہتر ہے، جس کے لئے تم یہاں آئے ہو _,"*
*❀_ انس بن رافع نے کنکریوں کی مٹھی بھر کر اٹھائیں اور ایاس کے منہ پر پھینک ماری اور کہاں :- بس چپ رہ، ہم اس کام کے لیے تو نہیں آئے_,"*
*"_ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے، یہ واقعہ جنگ باس سے، جو اوس اور خزرج میں ہوئی، پہلے کا ہے، ایاس واپس جا کر چند روز کے بعد مر گئے، مرتے وقت ان کی زبان پر تسبیح و تمحید و تہلیل و تکبیر جاری تھی، مرحوم کے دل میں نبی صل وسلم کے اسی وعظ سے اسلام کا بیج بویا گیا تھا، جو مرتے وقت پھل پھول آیا تھا _,*

*❀_ ضمادازدی رضی اللہ عنہ کا واقعہ قبول اسلام:- انہی ایام میں ضمادازدی رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے، یہ یمن کے باشندے تھے اور عرب کے مشہور افسوں گر تھے، جب انھوں نے سنا کہ محمد صل اللہ علیہ وسلم پر جنات کا اثر ہے تو انہوں نے قریش سے کہا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج اپنے منتر سے کر سکتا ہوں، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا:- محمد صلی اللہ علیہ وسلم آؤ تمہیں منتر سناؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے مجھ سے سن لو، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنایا:- (ترجمہ) سب تعریف اللہ کے واسطے ہے, ہم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں اور ہر کام میں اسی کی اعانت چاہتے ہیں، جسے اللہ راہ دکھاتا ہے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ ہی رستہ نہ دکھلائے اس کی کوئی رہبری نہیں کر سکتا، میری شہادت یہ ہے کہ

Comments

Be the first to add a comment