معانی اور مطلب👇

غزل
نالہ ہے بلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی

بانگِ دا

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

معانی: بے خطر: بے خوف ہو کر ۔ آتشِ نمرود: حضرت ابراہیم کے زمانے کے بادشاہ نمرود کی بھڑکائی ہوئی آگ جس میں آپ کو ڈالا گیا تو وہ حکم خدا سے گلزار بن گئی ۔ عشق: اشارہ ہے حضرت ابراہیم کی طرف جو محبوب حقیقی کے عشق سے سرشار تھے ۔ محو: مصروف، ڈوبی ہوئی ۔ تماشائے لبِ بام: چھت پر نظارہ کرنے کا عالم ۔
مطلب: اس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عشق الہٰی کے طفیل انجام کی پرو اکیے بغیر نمرود کی آگ میں کود پڑے ۔ اس کے برعکس اگر یہ عمل عقل و دانش تک محدود ہوتا تو وہ پہلے تمام حالات کا احتیاط سے جائزہ لیتے اور فوری عمل سے گریز کرتے ۔

Comments

Be the first to add a comment