⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-33_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کی تدبیر :- جب صحابہ کرام مکہ میں گنتی کے رہ گئے اور مشہور صحابہ میں سے صرف ابوبکر و علی رضی اللہ عنہم ہی باقی رہے تو قریش مکہ نے کہا کہ اب محمد ﷺ کے قتل کر دینے کا اچھا موقع ہے، تدبیر قتل پر غور کرنے کے لیے دارلندوہ میں خفیہ اجلاس ہوا، دار الندوہ کو قصی بن کلاب نے قائم کیا تھا، یہ گویا قریش کا ایوان ( مکان) پارلیمنٹ تھا، اس اجلاس میں نجدی کا ایک تجربہ کار بوڑھا شیطان بھی آ کر شامل ہوا تھا اور قریش کے مشہور قبائل میں سے مشہور سردار موجود تھے، ایک بولا- اسے پکڑ کر گلے میں طوق و زنجیر ڈال کر ایک مکان میں قید کر دو اور مکان کا دروازہ دہ تیغہ کر دوں تاکہ یہ بھی زہیر و نابعہ شاعروں کی موت کا مزہ چکھنا ہوا مر جائے، بوڑھا نجدی بولا - نہیں، یہ ٹھیک نہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قید ہونے کی خبر باہر نکلے بغیر نہ رہے گی, مسلمان اسے چھڑا لے جائیں گے اور طاقت پا کر تمہیں بھی فنا کر دیں گے_,"*

*❀_ دوسرا بولا - ایک سرکش اونٹ پر بٹھلا کر ہم اسے یہاں سے نکال دیں، ہماری طرف سے کہیں جائے، کہیں رہے، جی جئیے چاہے مرے، بوڑھا نجدی بولا - نہیں یہ رائے بھی ٹھیک نہیں, کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دلائل آویز باتوں کو بھول گئے ہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ جس سے بات کرتا ہے اس کو اپنا بنا لیتا ہے، وہ دلوں پر کیسی آسانی سے قابو پا لیتا ہے، جہاں جائے گا، وہیں کے باشندے اس کے ساتھ لگ جائیں گے اور وہ بالآخر تم سے اپنے نبی کا بدلہ لے کے چھوڑیں گے_, آخر ابوجہل نے ایسی تدبیر بتلائیں جسے تمام جلسہ نے بلا اتفاق منظورکرلیا- تجویز اور تدبیر یہ تھی کہ عرب کے ہر ایک مشہور قبیلے سے ایک ایک جواں مرد کا انتخاب کیا جائے، یہ سب بہادر رات کی تاریکی میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر کو گھیر لیں اور جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صبح کی نماز کے لیے باہر نکلے, اس وقت یہ سب سے بہادر اپنی اپنی تلوار سے وار کریں اور اس کی بوٹی بوٹی کر دیں، اس تدبیر کا یہ فائدہ بتایا گیا کہ جس قتل میں تمام قبیلے شامل ہوں گے، اس کا بدلہ نہ تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا قبیلہ لے سکے گا اور نہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو سچا ماننے والے کچھ شر و فساد اٹھا سکیں گے_,*

*❀_ انسانی تدبیر کے مقابلے میں الہی تدبیر:- انسانی تدبیر کے مقابلے اب الہی طاقت اور ربانی حمایت کو دیکھیے کہ جب رات کو ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر آ گھیرا، اس وقت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیارے بھائی علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا- تم میرے بستر پر میری چادر لے کر سو رہو، ذرا فکر نہ کرنا، کوئی شخص تمہارا بال بھی بیکا نہ کر سکے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ تو ان تلواروں کے سائے میں نہایت بے فکری سے مزے کی نیند سو رہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی حفاظت میں باہر نکلے اور ان دل کے اندھوں کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہوئے اور سورہ یسن پڑھتے ہوئے صاف نکل گئے، کسی نے نبی صلی وسلم کو جاتے نہ دیکھا، یہ واقعہ 27 صفر 13 نبوت بروز جمعرات (12 ستمبر 621) کا ہے،*

*❀_ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیارے دوست ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے اور انہوں نے جلدی سے سفر کا ضروری سامان درست کیا، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنا کمر بند کاٹ کر ستوؤں کے تھیلے کا منہ باندھ دیا، اسی شب کی تاریکی میں دونوں بزرگوار چل پڑے، مکہ سے چار میل کے فاصلے پر کوہ ثور ہے، اس کی چڑھائی سر توڑ ہے، راستہ سنگلاخ تھا، نوکیلے پتھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نازک پاؤں کو زخمی کر رہے تھے اور ٹھوکر لگنے سے بھی تکلیف ہوتی تھی، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور ایک غار پر پہنچے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر ٹھہرایا، خود اندر جا کر غار کو صاف کیا، تن کے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر غار کے سوراخ بند کیے اور پھر عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئیں _, صبح ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ حسب معمول خواب سے بیدار ہوئے، قریش نے قریب جا کر انہیں پہچانا، پوچھا - محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا- مجھے کیا خبر, کیا میرا پہرہ تھا، تم لوگوں نے انہیں نکل جانے دیا اور وہ نکل گئے، قریش غصے اور ندامت سے علی رضی اللہ عنہ پر پل پڑے، ان کو مارا اور خانہ کعبہ تک پکڑ لائے اور تھوڑی دیر کے لئے رکھا، آخر چھوڑ دیا _,*

Comments

Be the first to add a comment