⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-27_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ اسباب ہجرت :- 11 نبوت کے موسم حج کا ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی تاریکی میں شہر مکہ سے چند میل پرے مقام عقبہ پر لوگوں کو باتیں کرتے سنا، اس آواز پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے، یہ چھ آدمی تھے، امامہ اسعد بن زرارہ، عوف بن حارثہ، رافع بن مالک، قطبہ بن عامر بن حدید، عقبہ بن عامر اور سعد بن ربیع، یہ یثرب سے آئے تھے، ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی عظمت و جلال کا بیان شروع کیا, ان کی محبت کو اللہ کے ساتھ گرمایا، بتوں سے ان کو نفرت دلائی، نیکی و پاکیزگی کی تعلیم دے کر گناہوں اور برائیوں سے منع فرمایا، قرآن مجید کی تلاوت فرما کر ان کے دلوں کو روشن فرمایا، یہ لوگ اگرچہ بت پرست تھے لیکن انہوں نے اپنے شہر کے یہودیوں کو بار بار یہ ذکر کرتے ہوئے سنا تھا کہ ایک نبی عنقریب ظاہر ہونے والا ہے، اس تعلیم سے وہ اسی وقت ایمان لے آئے اور جب اپنے وطن کو لوٹ کر گئے تو دین حق کے سچے مناد بن گئے _,"*

*❀_ وہ ہر ایک کو یہ خوشخبری سناتے تھے کہ وہ نبی ہیں، جس کا تمام عالم کو انتظار تھا، آ گیا، ہمارے کانوں نے ان کا کلام سنا، ہماری آنکھوں نے ان کا دیدار کیا، انہوں نے ہم کو زندہ رہنے والے الہ سے ملا دیا کہ دنیا کی زندگی اور موت اب ہمارے سامنے ہے، ان لوگوں کی بشارت لے جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ یثرب کے گھر گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہونے لگا اور اگلے سال 12 نبوت کو یثرب کے 12 باشندے مکہ میں حاضر ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے دولتِ ایمان حاصل کی، ان لوگوں نے جن باتوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بعیت کی تھی وہ یہ ہیں:-*
*(١) _ ہم رب واحد کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائیں گے،*
*(٢)_ ہم چوری اور زنا کاری نہیں کریں گے،*
*(٣)_ ہم اپنی اولاد( لڑکیوں) کو قتل نہیں کریں گے,*
*(٤)_ ہم کسی پر جھوٹی تہمت نہیں لگائیں گے اور نہ کسی کی چغلی کیا کریں گے،*
*(٥)_ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہر ایک اچھی بات میں کیا کریں گے_,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*

Comments

Be the first to add a comment