⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-25_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_معراج:- 27 رجب 10 نبوت کو معراج ہوئی اور اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو "مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ" کی سیر کرائیں، اول مسجد حرام سے بیت المقدس تک تشریف لے گئے، وہاں امام بن کر جماعت انبیاء علیہ السلام کو نماز پڑھائی، پھر آسمانوں کی سیر کرتے اور انبیاء علیہ السلام سے ان کے مقامات پر ملتے ہوئے "سدرۃالمنتہیٰ" اور "بیت المعمور" تک پہنچے اور وہاں سے قرب حضوری خاص حاصل ہوا اور گوناگو وحی سے مشرف ہوئے _,"*
*❀_ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ و امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سیر روہ مبارک کو ہوئی تھی اور جسم مبارک اپنی جگہ سے مفقود ( غائب) نہیں ہوا تھا, علمائے جمہور کا قول ہے کہ اسراء بدن مبارک کے ساتھ تھا، (زادالمعاد 3/40)*

*❀_ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصیٰ تک پھر صدرة المنتہیٰ تک اور جہاں تک کہ اللہ نے چاہا، سیر کرائیں گئی، یہ سب کچھ جسم کے ساتھ بیداری میں تھا، لیکن یہ ایک مقام ہے جو مثال اور شہادت کے درمیان برزخ ہے اور ہر دو عالم مذکورہ کے احکام کا جامع ہوتا ہے، پس جسم پر روح کے احکام ظاہر ہوئے اور روح اور معانی نے جسم کو قبول کر کے تمثیل اختیار کیا، اسی لئے ان واقعات میں سے ہر واقعے کی ایک حقیقت ہے _,"*
*❀_ شب معراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن دودھ کا، ایک برتن شراب کا پیش کیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کو پسند فرمایا اور جبرائیل علیہ السلام نے بتلا دیا کہ آپ نے فطرت اصلیہ کو پسند فرمایا، اگر شراب کا برتن آپ لے لیتے تو آپ کی امت بھٹک جاتی، دیکھو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو فطرت پر جمع کرنے والے تھے اور دودھ سے مراد یہی ہے کہ امت فطرت کو پسند کرے، دنیاوی لزات کو پسند نہ کرے _,*

*❀_ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا براق پر سوار ہونا، مسجد اقصیٰ تک سیر، انبیاء علیہ السلام کی امامت، انبیاء علیہ السلام کے ساتھ ملاقات اور مفاخرت، آسمان پر یکے بعد دیگرے چڑھنا، درجہ بہ درجہ تعلقات طبعی سے نکل کر مستوی رحمٰن کی طرف جانا، سدرۃ المنتہا، رہے وہ انوار، وہ تجلیات رحمانی اور تدبیرات الہیہ، بیت المعمور، ہر ایک امر کی اپنی حقیقت ہے _,"*
*❀_ پانچ نمازوں کا تقرر بھی زبان تجویزی سے ہوا، یہ پانچ نمازیں سواب میں پچاس کے برابر ہیں، گویا رب کریم نے آہستہ آہستہ یہ سمجھایا کہ ثواب تو (پچاس کے برابر) کامل ہے اور حرج اور مرض اٹھا دیا گیا, یہ مطلب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سند سے متمثل ( مثل، مانند) کیا گیا ہے, کیونکہ جناب ممدوح (موسیٰ علیہ السلام) امت کی اصلاح و درستی اور اصول سیاست، امت کی شناخت میں اکثر انبیاء علیہ السلام سے بڑھے ہوئے ہیں _,"*

*❀_ اکثر مفسرین نے معراج کا ذکر طائف کی واپسی کے بعد کیا ہے، مگر امام طبری نے اپنی کتاب میں ابتدائے نبوت سے دوسرے دن ہی میراج کا ہونا تحریر کیا ہے، ان کی تائید اس دلیل سے بخوبی ہوتی ہے کہ جب فرضیت نماز کا حکم شب معراج میں ہوا اور نبی صل اللہ علیہ وسلم اور دیگر مسلمان اس وقت سے ہی برابر نماز پڑھتے تھے تو نماز کی فرضیت کا حکم گیارہ سال تک کیوں کر متاخر رہ سکتا ہے، لیکن حسب بیان شاہ عبدالحق محدث دہلوی ( مندرجہ شرح سفر سعادت ص 36) کہ پہلے صرف دو نمازیں فجر و عصر فرض ہوئی تھیں، اب شب معراج کو پانچ نمازیں فرض ہوئیں، کوئی اشقال نہیں رہ جاتا _,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*

Comments

Be the first to add a comment