⚂⚂⚂. ▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁ ✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮ ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ *■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■* ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ ★ *پوسٹ-20_* ★ ─━━━════●■●════━━━─ *❀_ قریش نے کہا:- اچھا تم آسمان ہی کا ٹکڑا توڑ کر ہم پر گرا دو کیونکہ تمہارا ازعم یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو ایسا کر سکتا ہے، پس جب تک تم ایسا نہ کرو گے ہم ایمان نہیں لائیں گے_, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- یہ اللہ کے اختیار میں ہے, وہ اگر چاہے تو ایسا کرے_,* *❀_ قریش نے کہا :- محمد صلی اللہ وسلم یہ بتاؤ کہ تمہارے رب نے تمہیں پہلے سے یہ نہ بتلایا کہ ہم تمہیں بلائیں گے اور ایسے ایسے سوال کریں گے، یہ یہ چیزیں طلب کریں گے، ہماری باتوں کا یہ جواب ہے اور اللہ کا منشا ایسا ایسا کرنے کا ہے ؟ چونکہ تمہارے رب نے ایسا نہیں کیا اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے سنا ہے وہ صحیح ہے کہ یمامہ میں ایک شخص رہتا ہے، اس کا نام رحمٰن ہے، وہی تجھے ایسی باتیں سکھلاتا ہے، ہم تو رحمٰن پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے،( اللہ عزوجل کے اسمائے حسنیٰ جو اسلام نے بتائے ہیں ان میں رحمٰن ایسا نام ہے جس سے عرب ہرگز واقف نہ تھے، اس لیے وہ اللہ کے نام رحمٰن سے بہت چڑا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ کسی گمنام شخص کا نام ہو گا حالانکہ رحمٰن رحمت سے مبالغہ کا صیغہ ہے، یعنی کمال رحمت والا)*
*❀_ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیکھو ! آج ہم نے اپنے سب عزرات سنا دیے ہیں، اب ہم تم سے قسمیہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں اس تعلیم کی اشاعت کبھی نہیں کرنے دیں گے، حتیٰ کہ ہم مر جائیں یا تم مر جاؤ _،* *"_ یہاں تک بات چیت ہوئی تھی کہ ایک ان میں سے بولا:- ہم ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ کی بیٹیاں ہیں_، دوسرا بولا :- محمد صل اللہ علیہ وسلم ہم تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے جب تک کہ اللہ اور اس کے فرشتے ہمارے سامنے نہ آجائیں _,* *❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری بات سن کر اٹھ کھڑے ہوئے، نبی ﷺ کے ساتھ عبداللہ بن ابو امیہ بن مغیرہ بھی اٹھ کھڑا ہوا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پھوپھی زاد بھائی ( عاتکہ بنت عبدالمطلب کا بیٹا) تھا, اس نے کہا :- محمد صل اللہ علیہ وسلم ! دیکھو تمہاری قوم نے اپنے لئے کچھ چیزوں کا تم سے سوال کیا, وہ بھی تم نے نہ مانا، پھر انہوں نے یہ چاہا کہ تم خود اپنے ہی لیے ایسی علامات کا اظہار کرو جس سے تمہاری قدر ومنزلت کا ثبوت ہو سکتا ہو، اسے بھی تم نے قبول نہیں کیا، پھر انہوں نے اپنے لئے تھوڑا سا عذاب بھی چاہا جس کا خوف تم دلایا کرتے ہو، تم نے اس کا بھی اقرار نہ کیا، بس اب میں تم پر کبھی ایمان نہیں لاؤنگا، ہاں اگر تم میرے سامنے آسمان کو زینہ لگا کر اوپر چڑ جاؤ اور میرے سامنے اس زینے سے اترو اور تمہارے ساتھ چار فرشتے بھی آئیں اور وہ تمہاری شہادت بھی دیں، میں تو تب بھی تم پر ایمان نہیں لاؤ گا _,*
*❀_ آپ نے دیکھا کہ اسلام کی عداوت میں عبداللہ کتنا سخت ہے، لیکن چند سال نہ گزرنے پائے تھے کہ فتح مکہ سے پہلے یہی عبداللہ اللہ تعالی کی توفیق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لےآیا، اہل دانش جان سکتے ہیں کہ ایسے شخص کا اسلام لانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا معجزہ ہے جو آسمان پر زینہ لگا کر چڑھ جانے، فرشتوں کی شہادت دینے سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ یہ تو وہ باتیں ہیں جن کے دیکھ لینے کے بعد بھی عبداللہ ایمان نہیں لانا چاہتا تھا _, نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس رد و انکار پر بھی برابر قریش کو اسلام کی ہدایت کیا کرتے اور فرمایا کرتے کہ میری تعلیم ہی میں سب کچھ تمہارے لیے موجود ہے، جن دانشمندوں نے ایمان کو قبول کیا اور تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر کاربند ہوئے انہیں اس سے بھی زیادہ معروف فوائد حاصل ہو گئے، جن کا سوال قریش نے کیا تھا _,*
*❀_ ہم کو اس موقع پر انجیل کا وہ مقام یاد آتا ہے، جس میں مسیحی علیہ السلام سے آزمائش کے لئے شیطان نے کئی سوال کئے اور مسیحی علیہ السلام نے ان سب کا جواب انکار میں دیا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے برگزیدہ رسول علیہ السلام اپنی صداقت کے ثبوت میں اپنی تعلیم کو پیش کیا کرتے ہیں، معجزہ یا خرق عادت کو پیش نہیں کیا کرتے، کیونکہ پھر صفت ایمان بالغیب کی خوبی باقی نہیں رہتی، اگرچہ کسی دیگر اوقات میں کسی ضرورت کے لیے ان سے معجزات کا صدور بھی بکثرت ہوتا رہتا ہے_,*
*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,* •┄┄┅┅━━═۞═━━┅┅┄┄•