⚂⚂⚂. ▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁ ✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮ ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ *■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■* ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ ★ *پوسٹ-21_* ★ ─━━━════●■●════━━━─ *❀__ امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا :- نبوت کے چھٹے برس کا ذکر ہے کہ ایک روز ہمارے نبی صل اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر بیٹھے ہوئے تھے، ابو جہل وہاں پہنچ گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے تو گالیاں دیں اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں سن کر چپ رہے تو اس نے ایک پتھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر پھینک مارا جس سے خون چلنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تایا حمزہ رضی اللہ عنہ کو خبر ہوئی، وہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے، قرابت کے جوش میں ابو جہل کے پاس پہنچے اور اس کے سر پر زور سے کمان کھیچ ماری کہ وہ زخمی ہوگیا، حمزہ رضی اللہ عنہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا:- بھتیجے ! تم یہ سن کر خوش ہوں گے کہ میں نے ابو جہل سے تمہارا بدلہ لے لیا _,* *"_ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- تایا میں ایسی باتوں سے خوش نہیں ہوا کرتا، ہاں تم مسلمان ہو جاؤ تو مجھے بڑی خوشی ہوگی _,امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اسی وقت مسلمان ہو گئے _,*
*❀_ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا :- امیر حمزہ رضی اللہ عنہ سے تین دن پیچھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے، یہ بڑے دلیر اور بہادر تھے، قریش کی طرف سے بیرونی ممالک کی سفارت کا کام ان سے متعلق تھا، ایک دن عمر رضی اللہ عنہ اپنی بہادری کے بھروسے پر نبی صل اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر کے گھر سے نکلے، بدن پر سب ہتھیار سجا رکھے تھے، راستے میں ان کو پتہ لگا کہ بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہو گئے ہیں، یہ سن کر بہن کے گھر گئے اور ان دونوں کو خوب مارا، ان کی بہن فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا :- عمر تم پہلے وہ کتاب سن لو جسے سن کر ہم ایمان لے آئے ہیں، اگر وہ تم کو اچھی نہ لگے تو ہم کو مار ڈالنا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :- اچھا*
*❀_ اس وقت ان کے گھر میں نبی صل اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بھی تھے، جو عمر رضی اللہ عنہ کے آ جانے سے چھپ گیے تھے، انہوں نے قرآن مجید ( طہ کا پہلا رکوع) سنایا، عمر فاروق رضی اللہ عنہ قرآن سن رہے تھے اور بے اختیار رو رہے تھے، غرض عمر رضی اللہ عنہ اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان لے آئے، جو شخص گھر سے قاتل بن کر نکلا تھا، وہ جان نثار بن گیا، آگے چل کر ان کا لقب فاروق ہوا _,* *❀_ اس وقت تک صحابہ کرام نماز اپنے گھروں میں چھپ چھپ کر پڑھا کرتے تھے، اب کعبہ میں جا کر پڑھنے لگے، مشرق یہ دیکھ کر اور بھی زیادہ جلے اور صحابہ کرام کو بے حد تکلیف دینے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی گستاخی سے پیش آتے تھے _,*
*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*