⚂⚂⚂. ▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁ ✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮ ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ *■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■* ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ ★ *پوسٹ-22_* ★ ─━━━════●■●════━━━─ *❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قبیلہ سمیت تین سال تک پہاڑ کی گھاٹی کے اندر محصور رہے :- جب مشرکین نے دیکھا کہ ایسی اذیتوں اور تکلیفوں پر بھی نبی صل اللہ علیہ وسلم اپنی تعلیم پر قائم ہیں اور بے نظیر جرأت سے اور انتھک محنت سے اپنا کام کیے جاتے ہیں تو بماہ محرم 7 نبوت انہوں نے کہا کہ :- بنو ہاشم جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ ہے اگرچہ مسلمان نہیں ہوا پھر بھی نبی صل اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑتا، آؤ ان سے ناطہ رشتہ کرنا چھوڑ دو، انہیں گلی بازار میں پھرنے نہ دو، ان کو کوئی چیز مول بھی نہ دو _, اس بات کا معاہدہ لکھا گیا اور کعبہ پر لٹکا یا گیا _,* *❀_ نبی صل اللہ علیہ وسلم اور ان کا قبیلہ مجبور ہو گئے، گھر بار چھوڑ کر پہاڑ کی گھاٹی میں محبوس و محسور ہو کر رہنے لگے، قریشی اجناس خورونی کا ( غلہ و دیگر چیزوں کے لئے) جانا بھی بند کر دیا، بنی ہاشم کے بچے بھوک کے مارے اس قدر رویا کرتے تھے کہ ان کی آواز گھاٹی کے باہر تک سنائی دیتی_,*
*❀_تین برس تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خاندان نے اسی طرح کاٹے اور جو مسلمان تھے وہ بھی اپنے گھروں میں قیدی بن کر رہنے لگے، حج کے دنوں میں جب مشرکین بھی دشمن سے لڑنا حرام جانتے تھے، نبی صل اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی سے باہر نکلا کرتے تھے اور لوگوں کو اللہ پر ایمان لانے کا وعظ سنایا کرتے تھے، کم بخت ابولہب صبح سے شام تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے پھرا کرتا اور کہا کرتا- لوگوں یہ دیوانہ ہے، اس کی بات نہ سنو، جو کوئی اس کی بات سنے گا اور مانے گا وہ تباہ ہو جائے گا_,"* *❀_ تین برس تک نبی صل اللہ علیہ وسلم نے اس سختی کو نہایت صبر و استقلال سے برداشت کیا، جب مشرکین نے گھاٹی پر سے پہرے اٹھا لئے اور دیمک نے اس معاہدے کے کاغذ کو کھا لیا جو کعبہ پر لٹکایا گیا تھا، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور پھر وعظ کا سلسلہ شروع کر دیا _,*
*❀__ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے، وہاں مشرق سردار بیٹھے ہوئے تھے، ابو جہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور تمسخر سے کہا :- عبدمناف والوں ! دیکھو تمہارا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) آ گیا _, عقبہ بن ربیعہ بولا- ہمیں کیا انکار ہے ہم میں سے کوئی نبی بن بیٹھے، کوئی فرشتہ کہلا ئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ باتیں سن کے لوٹے اور ان کے پاس آئے، پہلے عقبہ سے فرمایا :- عقبہ ! تو نے اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم کی حمایت کبھی بھی نہ کی، تو اپنی ہی بات کی پیچ پر اڑا رہا _, پھر ابوجہل سے فرمایا:- تیرے لیے وہ وقت بہت قریب آرہا ہے، دور نہیں رہا ہے کہ تو تھوڑا ہنسے گا اور بہت روئے گا _,* *"_ پھر قریش سے فرمایا:- تمہارے لیے وہ ساعت نزدیک آرہی ہے کہ جس دین کا تم انکار کرتے ہو آخر اسی میں داخل ہو جاؤ گے _,*
*❀_ ابوطالب کا انتقال :- 10 نبوت میں نبی صل اللہ علیہ وسلم کے تایا ابو طالب جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد تھے، انتقال ہوگیا، ابوطالب نے لڑکپن سے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی تربیت کی تھی اور جب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کی دعوت اور منادی شروع کی تھی وہ برابر مددگار رہے تھے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات کا بڑا صدمہ ہوا _,* *❀_ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا انتقال :- ان سے تین دن پیچھے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیوی طاہرہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا نے انتقال فرمایا، جنہوں نے اپنا سارا مال و زر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی پر قربان اور اللہ کی راہ میں صرف کر دیا تھا، سب سے پہلے اسلام لائ تھیں، جبرائیل علیہ السلام نے ان کو اللہ کا سلام پہنچایا تھا، ان کے گزر جانے کا رنج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہوا _,*
*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*