⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-32_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عیاش رضی اللہ عنہ اور ہشام رضی اللہ عنہ صحابی بھی ان کے ساتھ مدینہ چلنے کو تیار ہوئے تھے، عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ تو روانگی کے وقت جائے مقررہ پر پہنچ گئے، مگر ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کی بابت مشرکین کو خبر لگ گیی، ان کو قریش نے قید کر دیا، عیاش رضی اللہ عنہ مدینہ جا پہنچے تھے کہ ابوجہل اپنے بھائی حرث کے ساتھ مدینہ پہنچا، عیاش رضی اللہ عنہ ان کے چچیرے بھائی تھے اور تینوں کی ایک ماں تھی_,"*

*❀_ ابوجہل و حرث نے کہا کہ تمہارے بعد والدہ کی بری حالت ہو رہی ہے، اس نے قسم کھائی ہے کہ عیاش کا منہ دیکھنے تک نہ سر میں کنگھی کروں گی اور نہ سایہ میں بیٹھوں گی، اس لئے بھائی تم چلو اور ماں کو تسکین دے کر آ جانا _,"*
*❀_ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا - عیاش رضی اللہ عنہ مجھے تو یہ فریب معلوم ہوتا ہے، تمہاری ماں کے سر میں کوئی جوں پڑ گئی تو وہ خود ہی کنگھی کر لے گی اور مکہ کی دھوپ نے ذرا خبر لی تو وہ خود ہی سایہ میں جا بیٹھےگی، میری رائے تو یہ ہے کہ تم کو جانا نہیں چاہیے، عیاش رضی اللہ عنہ بولے - نہیں، میں والدہ کی قسم پوری کرکے واپس آ جاؤں گا، عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا - اچھا اگر یہی رائے ہے تو سواری کے لئے میری ناقہ لے جاؤ، یہ بہت تیز رفتار ہے، اگر راستے میں تمہیں ذرا بھی ان سے شبہ گزرے تو تم اس ناقہ پر باآسانی ان کی گرفت سے بچ کر آ سکو گے_,"*

*❀_ عیاش رضی اللہ عنہ نے ناقہ لے لی، یہ تینوں چل پڑے، ایک روز راہ میں (مکہ کے قریب) ابوجہل نے کہا- بھائی ہمارا اونٹ تو ناقہ کے ساتھ چلتا چلتا رہ گیا، بہتر ہے کہ تم مجھے اپنے ساتھ سوار کرلو، عیاش رضی اللہ عنہ بولے- بہتر, جب عیاش رضی اللہ عنہ نے ناقہ بٹھائیں تو دونوں بھائیوں نے انہیں پکڑ لیا، مشکیں کس لیں اور مکہ میں اسی طرح لے کر داخل ہوئے، یہ دونوں بڑے فخر سے کہتے تھے کہ دیکھو، بے وقوفوں، احمقوں کو یوں سجا دیا کرتے ہیں، اب عیاش کو بھی ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ قید کر دیا گیا،*

*❀_ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ گئے، تب حضور کی تمنا پوری کرنے کے لیے ولید بن مغیرہ رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے، زندان خانے سے دونوں کو شباشب نکال کر لے گئے، ( سیرت ابن ہشام - 1/167)*

*❀_ ان حکایات سے قارئین یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ ہجرت کے وقت بھی صحابہ کرام کو کیسی سخت مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، گھر چھوڑنا بھی بلا خاص جدوجہد اور ابتلاء وامتحان کے آسان نہ تھا_,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*

Comments

Be the first to add a comment