میرے ساتھ چلو، میں پہلے اندر جا کر دیکھ لوں گا، اگر اس وقت ملنا مناسب نہ ہو گا تو میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو جاؤں گا، گویا جوتا درست کر رہا ہوں_,*
*❀_ ‌الغرض ابوذر رضی اللہ عنہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خدمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچے اور عرض کیا کہ مجھے بتلایا جائے کہ اسلام کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی بابت بیان فرمایا اور ابوذر رضی اللہ عنہ اسی وقت مسلمان ہو گئے_,*

*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا- ابو ذر ! تم ابھی اس بات کو چھپائے رکھوں اور اپنے وطن کو چلے جاؤ, جب تمہیں ہمارے ظہور کی خبر مل جائے تب آ جانا, ابو ذر رضی اللہ عنہ بولے- بخدا ! میں تو ان دشمنوں میں اعلان کرنے جاؤں گا، اب ابوذر رضی اللہ عنہ کعبہ کی طرف آئے، قریش جمع تھے، انہوں نے سب کو سنا کر باآواز بلند کلمہ شہادت پڑھا، قریش نے کہا- اس بے دین کو مارو، لوگوں نے انہیں مارنا شروع کر دیا، عباس رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے انہیں جھک کر دیکھا اور کہا- کم بختوں ! یہ تو قبیلہ بنو غفار کا آدمی ہے, جہاں تم تجارت کو جاتے اور کھجوریں لاتے ہو, لوگ ہٹ گئے، اگلے دن انہوں نے پھر سب کو سنا کر کلمہ پڑھا، پھر لوگوں نے مارا اور عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو چھوڑایا اور یہ اپنے وطن کو چلے آئے _,*
*( بخاری - 3522)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*

Comments

Be the first to add a comment