⚂⚂⚂. ▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁ ✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮ ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ *■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■* ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ ★ *پوسٹ-31_* ★ ─━━━════●■●════━━━─ *❀_حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا ارادہ کیا، مجھے اونٹ پر چڑھیا، میری گود میں میرا بچہ سلمیٰ تھا، جب ہم چل پڑے تو بنو مغیرہ نے آکر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا، کہا - تو جا سکتا ہے، مگر ہماری لڑکی کو نہیں لے جا سکتا، اب بنو عبدلاسد بھی آگئے، انہوں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا- تو جا سکتا ہے مگر بچہ کو جو ہمارے قبیلے کا بچہ ہے، تو نہیں لے جا سکتا,*
*❀_ غرض انہوں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے اونٹ کی مہار لے کر اونٹ بٹھا دیا، بنو عبدالاسد تو گود کے بچے کو ماں سے چھین کے لے گئے اور بنو مغیرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ جو دین کے لیے ہجرت کرنا فرض سمجھتے تھے اپنے بیوی بچے کے بغیر روانہ ہوگئے _,"*
*❀_ ام سلمہ رضی اللہ عنہا روز شام کو اسی جگہ جہاں بچہ اور شوہر سے الگ ہو گئی تھی پہنچ جاتی، گھنٹوں رو دھو کر واپس آ جاتی، ایک سال اسی طرح روتے چلاتے گزر گیا، آخر ان کے ایک چچیرے بھائی کو رحم آیا اور ہر دو قبائل سے کہہ سن کر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دلا دی کہ اپنے شوہر کے پاس چلی جائے، بچہ بھی ان کو واپس دے دیا گیا، ام سلمہ رضی اللہ عنہا ایک اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ کو تنہا چل دیں_," ( سیرت ابن ہشام- 108)*
*❀_ ایسی ہی مشکلات کا سامنا تقریباً ہر ایک صحابی کو کرنا پڑا تھا،*
*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*