⚂⚂⚂. ▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁ ✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮ ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ *■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■* ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ ★ *پوسٹ-19_* ★ ─━━━════●■●════━━━─ *❀_ اس ناکامی کے بعد قریش مکہ نے مشاورت کی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قوم کے سامنے بلا کر سمجھانا چاہئے، اس مشاورت کے بعد انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہلا بھیجا کہ سردارانِ قوم آپ سے کچھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور کعبہ کے اندر جمع ہیں _, نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش خوش وہاں آ گئے کیونکہ حضور صل اللہ علیہ وسلم کو ان کے ایمان لے آنے کی بڑی ہی آرزو تھی، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں جا بیٹھے تو انہوں نے گفتگو کا آغاز اس طرح کیا :-*
*❀_اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے تمھیں یہاں بات کرنے کے لئے بلایا ہے, بخدا ہم نہیں جانتے کہ کوئی شخص اپنی قوم پر اتنی مشکلات لایا ہو جس قدر تم نے قوم پر ڈال رکھی ہے، کوئی خرابی ایسی نہیں جو تمہاری وجہ سے ہم پر نہ آ چکی ہو، اب تم یہ بتاؤ کہ اگر تم اپنے اس نئے دین سے مال جمع کرنا چاہتے ہو تو ہم تمہارے لیے مال جمع کردیں، اتنا کہ ہم میں سے کسی کے پاس اتنا روپیہ نہ نکلے اور اگر شرف و عزت کے خواستگار ہو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنا لیں اور اگر سلطنت کے طالب ہو تو تمہیں اپنا بادشاہ مقرر کر لیں اور اگر تم سمجھتے ہو کہ جو چیز تمہیں دکھائی دیتی ہے کوئی جن ہے جو غالب آ گیا ہے، تو ہم ٹونے ٹوٹکوں کے لئے مال صرف کردیں تاکہ تم تندرست ہو جاؤ یا قوم کے نزدیک معذور سمجھے جاؤ _,*
*❀_ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- تم نے جو کچھ کہا میری حالت کے ذرا بھی مطابق نہیں، جو تعلیم میں لے کر آیا ہوں وہ نہ طلب اموال کے لیے ہے، نہ طلب شرف یا حصول سلطنت کے واسطے ہے، بات یہ ہے کہ اللہ نے مجھے تمہاری طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے، مجھ پر کتاب اتاری ہے، مجھے اپنا بشیر ونذیر بنایا ہے، میں نے اپنے رب کے پیغام تم کو پہنچا دیے ہیں اور تمہیں بخوبی سمجھا دیا ہے، اگر تم میری تعلیمات کو قبول کر لو گے تو یہ تمہارے لئے دنیا و آخرت کا سرمایا ہے اور اگر رد کروگے تب میں اللہ کے حکم کا انتظار کروں گا کہ وہ میرے لئے اور تمہارے لئے کیا حکم بھیجتا ہے_,*
*❀_ قریش نے کہا:- اچھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر تم ہماری ان باتوں کو نہیں مانتے تو ایک اور بات سنو، تمہیں معلوم ہے کہ ہم کس قدر سختی اور تنگی سے دن کاٹ رہے ہیں، پانی ہمارے پاس سب سے کم ہے اور گزران ہماری سب سے زیادہ تنگ ہے، اب تم اللہ سے یہ سوال کرو ان پہاڑوں کو ہمارے سامنے سے ہٹا دے تاکہ ہمارے شہر کا میدان کھل جائے، نیز ہمارے لئے ایسی نہریں جاری کر دے جیسی شام و عراق میں جاری ہیں، ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دے، ان زندہ ہونے والوں میں قصی بن کلاب ضرور ہو کیونکہ وہ ہمارا سردار تھا اور سچ بولا کرتا تھا، ہم اس سے تمہاری بابت پوچھ لیں گے، اگر اس نے تمہاری باتوں کو سچ مان لیا اور تم نے ہمارے دوسرے سوالوں کو بھی پورا کر دیا، تب ہم بھی تمہیں سچا جان لیں گے اور مان لیں گے کہ اللہ کے ہاں تمہارا بھی کوئی درجہ ہے اور اس نے فی الحقیقت تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے، جیسا کہ تم کہہ رہے ہو_,*
*❀_ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- میں ان کاموں کے لئے رسول بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں, میں تو اس تعلیم کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میں نے اللہ کے پیغامات تمہیں سنا دیے ہیں, اگر تم اس تعلیم کو قبول کر لو گے تو یہ تمہاری دنیا و آخرت کے لیے سرمایہ ہے اور اگر رد کرو گے تو میں اللہ کے حکم کا انتظار کروں گا، جو کچھ اس نے میرا اور تمہارا فیصلہ کرنا ہوگا فرمائے گا_،* *❀_ قریش نے کہا:- اچھا ! اگر تم ہمارے لئے کچھ نہیں کرتے تو خود اپنے لیے اللہ سے سوال کرو :- کہ وہ ایک فرشتے کو تمہارے ساتھ مقرر کردے، جو یہ کہتا رہا کرے کہ یہ شخص سچا ہے اور ہم کو تمہاری مخالفت سے منع بھی کردے_,ہاں تم اپنے لیے یہ بھی سوال کرو کہ باغ لگ جائیں، بڑے بڑے محل بن جائیں، خزانہ میں سونا چاندی جمع ہو جائے جس کی تمہیں ضرورت بھی ہے، اب تک تو خود ہی بازار میں جاتے اور اپنی معاش تلاش کیا کرتے ہو، ایسا ہو جانے کے بعد ہم تمہاری فضیلت اور شرف کی پہچان حاصل کر سکیں گے اور تمہیں اللہ کا رسول سمجھ سکیں گے_,*
*❀_رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- میں ایسا نہ کروں گا اور اللہ سے بھی ایسا سوال نہ کروں گا اور ان باتوں کے لئے مبعوث بھی نہیں ہوا، مجھے تو اللہ نے بشیر و نذیر بنایا ہے، تم مان لو تمہارے لئے ذخیرہ دارین ہے ورنہ میں صبر کروں گا اور اللہ کے فیصلے کا منتظر رہوں گا _,*