ظریفانہ
بانگِ درا

جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست
ہے یہی اک بات ہر مذہب کا تت
چَٹّے بَٹّے ایک ہی تھیلی کے ہیں
ساہُو کاری، بِسوہ داری، سلطنت

ست: سچ یا صداقت۔
تَت: نچوڑ یا اصل حقیقت
چٹے بٹے ایک ہی تھیلی کے ہیں: سب ایک ہی قماش اور فطرت کے حامل ہیں
۔اہُو کاری، بِسوہ داری، سلطنت: سود خور (ساہوکار)، زمیندار/جاگیردار (بسوہ دار)، اور حکمران طبقہ (سلطنت)۔

ترجمہ: انسانی جان چلی جائے لیکن سچ (ست) ہاتھ سے نہ جانے پائے، تمام مذاہب کا نچوڑ یہی صداقت ہے۔سرمایہ دارانہ نظام کے سود خور، جاگیردار اور حکمران—یہ سب عوام کا استحصال کرنے میں ایک ہی جیسے ہیں۔ ان میں کوئی فرق نہیں۔

Comments

Be the first to add a comment