رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كَيْفَ بِكَ يَا سُرَاقَةُ إِذَا لَبِسْتَ سِوَارَيْ كِسْرَى؟»

“اے سراقہ! اُس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن پہنو گے؟”

یہ واقعہ ہجرت کے سفر میں پیش آیا، جب سراقہ بن مالکؓ نبی ﷺ کا تعاقب کر رہے تھے۔ بعد میں حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں کسریٰ کے خزانے سے کنگن لائے گئے اور سراقہؓ کو پہنائے گئے، یوں نبی ﷺ کی پیش گوئی پوری ہوئی۔

معانی اور مطلب👇

بڈّھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو
ارمغانِ حجاز

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

معانی: غیرت: اپنی عزت یا عزت نفس برقرار رکھنے کا جذبہ ۔ جہان تگ و دو: یہ دنیا جہاں زندگی گزارنے کے لیے بڑی دوڑ دھوپ کرنی پڑتی ہے ۔ درویش: خدا سے لو لگائے ہوئے دنیاوی سازوسامان سے بے گانہ شخص ۔ تاج سردارا: دارا کے سر کا تاج، دارا ایران کا ایک بادشاہ گزرا ہے ۔
مطلب: انسان کے لیے اصل سرمایہ دنیا کا سازوسامان اور آرائش و آسائش نہیں بلکہ اپنی عزت اور عزت نفس کو برقرار رکھنا ہے ۔ یہ وہ جذبہ ہے جو خدا مست اور دنیا سے بے نیاز شخص کو دارا کا تاج پہناتی ہے ۔ وہ بوریا نشیں ہو کر بھی تخت نشیں ہوتا ہے اس لیے تو اسے علاقے میں دلی اور بخارا جیسی رونق نہ ہونے کو دیکھ بلکہ یہ دیکھ کہ جو عزت نفس تو یہاں ملحوظ خاطر رکھ سکتا ہے وہ ان شہروں میں نہیں ہے ۔

Comments

Be the first to add a comment