⚂⚂⚂. ▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁ ✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮ ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ *■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■* ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ ★ *پوسٹ-26_* ★ ─━━━════●■●════━━━─ *❀_ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا :- انہی دنوں طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے, یہ قبیلہ دوس کے سردار تھے اور یمن میں ان کے خاندان میں رئیسانہ حکومت تھی، طفیل رضی اللہ عنہ بذات خود شاعر و دانش مند شخص تھے، اہل مکہ نے آبادی سے باہر جا کر ان کا استقبال کیا اور اعلیٰ پیمانے پر ان کی خدمت اور تواضع کی، طفیل رضی اللہ عنہ کا اپنا بیان ہے کہ مجھے اہل مکہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ شخص جو ہم میں سے نکالا ہے، اس سے ذرا بچنا، اسے جادو آتا ہے، جادو سے باپ بیٹے، زن و شوہر، بھائی بھائی میں جدائی ڈال دیتا ہے، ہماری جمیعت کو پریشان اور ہمارے کام ابتر کر دیے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ تمہاری قوم پر بھی ایسی ہی کوئی مصیبت پڑے، اس لئے ہماری زور سے یہ نصیحت ہے کہ نہ اس کے پاس جانا، نہ اس کی بات سننا اور نہ خود بات چیت کرنا _,"* *❀_ یہ باتیں انہوں نے ایسی عمدگی سے میرے ذہن نشین کر دیں کہ جب میں کعبہ میں جانا چاہتا تو کانوں کو روئی سے بند کر لیتا، تاکہ محمد صل اللہ علیہ وسلم کی آواز کی بھنک بھی میرے کان میں نہ پڑ جائے، ایک روز میں صبح ہی خانہ کعبہ میں گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، چوںکہ اللہ کی مصیبت یہ تھی کہ ان کی آواز میری سماعت تک ضرور پہنچے، اس لیے میں نے سنا کہ ایک نہایت عجیب کلام وہ پڑھ رہے ہیں،*
*❀_ اس وقت میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا کہ میں خود شاعر ہوں، با علم ہوں، اچھے برے کی تمیز رکھتا ہوں، پھر کیا وجہ ہے؟ اور کون سی روک ہے کہ میں ان کی بات نہ سنوں، اچھی بات ہوگی تو مانوں گا ورنہ نہیں مانوں گا، میں یہ ارادہ کر کے ٹھہر گیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس گھر کو چلے گئے، تو میں بھی پیچھے پیچھے ہو لیا، اور جب مکان پر حاضر ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا واقعہ مکہ میں آنے، لوگوں کے بہکانے، کانوں میں روئی لگانے اور آج حضور صل اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کچھ سن پانے کا کہہ سنایا اور عرض کیا کہ مجھے اپنی بات سنائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھا، بخُدا ! میں نے ایسا پاکیزہ کلام کبھی سنا ہی نہ تھا, جو اس قدر نیکی اور انصاف کی ہدایت کرتا ہو_,* *❀_ الغرض طفیل رضی اللہ عنہ اسی وقت مسلمان ہو گئے، جسے قریش بات بات میں مخدوم و مطاع کہتے تھے، وہ بات کی بات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دل و جان سے خادم اور مطبع بن گیا، قریش کو ایسے شخص کا مسلمان ہونا نہایت شاق و ناگوار گزرا_,* *®_( ابن سعد فی الطبقات، 14/ 176)*
*❀_ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا:- ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے شہر یثرب ہی میں تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ اڑتی سی خبر سنی، انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ تم مکہ جاؤ، مکہ میں اس شخص سے مل کر آؤ اور پھر مجھے بتاؤ_, انیس برادر ابوذر ایک مشہور فصیح شاعر، زبان آور تھے، وہ مکہ میں آئے، نبی صل اللہ علیہ وسلم سے ملے، پھر بھائی کو بتایا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا شخص پایا جو نیکیوں کے کرنے کا اور شر سے بچنے کا حکم دیتے ہیں _,*
*❀_ ابوذر رضی اللہ عنہ بولے، اتنی بات سے تو کچھ تسلی نہیں ہوتی، آخر خود پیدل چل کر مکہ پہنچے، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت نہ تھیں اور کسی سے دریافت کرنا بھی وہ پسند نہ کرتے تھے، زمزم کا پانی پی کر کعبہ ہی میں لیٹ رہے، علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے پاس کھڑے ہو کر کہا کہ یہ تو کوئی مسافر معلوم ہوتا ہے، ابوذر رضی اللہ عنہ بولے, ہاں, علی رضی اللہ عنہ نے کہا- اچھا میرے ہاں چلو، یہ رات کو وہیں رہے، نہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کچھ پوچھا، نہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا،* *❀_ صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ پھر کعبہ میں آ گئے، دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش تھی، مگر کسی سے دریافت نہیں کرتے تھے، علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ پھر آ پہنچے، انہوں نے فرمایا- شاید تمہیں اپنا ٹھکانہ نہ ملا، ابوذر رضی اللہ عنہ بولے- ہاں، علی رضی اللہ عنہ پھر ساتھ لے گئے، اب انہوں نے پوچھا- تم کون ہو اور کیوں یہاں آئے ہو ؟ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا- راز رکھو تو میں بتلا دیتا ہوں، علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا _,*
*❀_ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا- میں نے سنا ہے کہ شہر میں ایک شخص ہے جو اپنے آپ کو نبی اللہ بتلاتا ہے، میں نے اپنے بھائی کو بھیجا تھا، وہ یہاں سے کچھ تسلی بخش بات لے کر نہیں گیا، اس لئے میں خود آیا ہوں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا:- تم خوب آئے اور خوب ہوا کہ مجھ سے ملے، دیکھو میں انہیں کی خدمت میں جا رہا ہوں،