*❀_اسی مقام پر ایک دفعہ وعظ کرتے ہوئے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے اتنی چوٹیں لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو کر گر پڑے، زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو اپنی پیٹھ پر اٹھا یا، آبادی سے باہر لے گئے، پانی کے چھینٹے دیئے، تو ہوش آیا_,* *❀_ اس سفر میں اتنی تکلیفیں اور ایذاؤں کے بعد ایک شخص تک کے مسلمان نہ ہونے کے رنج اور صدمے کے وقت بھی نبی صل اللہ علیہ وسلم کا دل اللہ کی عظمت اور محبت سے بھرپور تھا، اس وقت جو دعا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی اس کے الفاظ یہ ہیں:- (ترجمہ) الٰہی اپنی کمزوری, بے سرو سامانی اور لوگوں کی تحقیر کی بابت تیرے سامنے فریاد کرتا ہوں تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، درماندہ عاجزوں کا مالک تو ہی ہے اور میرا مالک بھی تو ہی ہے، مجھے کس کے سپرد کیا جاتا ہے، کیا بیگانہ ترش رو کے یا اس دشمن کے جو کام پر قابو رکھتا ہے لیکن جب مجھ پر تیرا غضب نہیں، تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں، کیونکہ تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسیع ہے، میں تیری ذات کے نور سے پناہ چاہتا ہوں جس سے سب تاریکیاں روشن ہوجاتی ہیں اور دنیا و دین کے کام اس سے ٹھیک ہو جاتے ہیں کہ تیرا غضب مجھ پر اترے یا تیری رضامندی مجھ پر وارد ہو، مجھے تیری ہی رضامندی اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے یا بدی سے بچنے کی طاقت مجھے تیری ہی طرف سے ملتی ہے _,* *❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس ہوتے ہوئے یہ بھی فرمایا:- میں ان لوگوں کی تباہی کے لیے کیوں دعا کرو اگر یہ لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کیا ہوا، امید ہے کہ ان کی آئندہ نسلیں ضرور ایک اللہ پر ایمان لانے والی ہوں گی _,* *( بخاری3231- 7389, مسلم -4653)*
*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*