خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے فلک جس طرح آنکھ کے تِل میں ہے
شرح آنکھ کی پتلی ایک ننھا سا نقطہ ہے مگر پورا آسمان اسی میں سما جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ خودی کا ٹھکانا بھی انسان کا دل ہے۔ دل جسم کے لحاظ سے چھوٹا ہے مگر اس میں وہ وسعت ہے جو افلاک کو اپنے اندر سمو لے۔ یہ تشبیہ دو باتیں سکھاتی ہے۔ پہلی یہ کہ خودی کو باہر نہیں ڈھونڈنا، وہ انسان کے اپنے باطن میں ہے۔ دوسری یہ کہ ظاہری چھوٹا پن حقیقی چھوٹے پن کی دلیل نہیں۔ ساقی نامہ میں اس شعر کے فوراً بعد اقبال خبردار کرتے ہیں کہ خودی کے نگہبان کے لیے وہ روٹی زہر ہے جس سے اس کی آبرو جاتی رہے۔ یعنی جو چیز دل میں اتنی وسعت رکھتی ہے اس کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔