‎*کلہ بہ رازے ؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ : مفتی سید عدنان کاکاخیل کا دس سال قبل لکھا گیا درد بھرا کالم جو سوات آپریشن کے بعد ایک جریدہ میں شائع ہوا تھا ۔۔۔

‎
‎یہ ڈیڑھ سال پہلے کا قصہ ہے۔ غیروں کی جنگ کے اٹھتے شعلوں نے جنت نشان وادی سوات کا دامن جھلسا دیا تھا ۔ خاک وخون اور بارود وبو سے تنگ سوات وبونیر کے لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑکر نچلے علاقوں میں پناہ گزین ہونے پر مجبور کر دیے گۓ تھے۔ چونکہ ان کو اپنا گھر بار چھوڑنے کے لیے فقط چند منٹوں کی مہلت دی گئی تھی اس لیے یہ لاکھوں افراد بالکل تہی دست، تن کے دو کپڑوں میں گھروں سے نکلے تھے۔ یہ بے سروسامان قافلے شیرگڑھ، مردان، صوابی، چارسدہ اور پشاور وغیرہ میں کھلے آسمان تلے، سڑکوں کے کنارے آکر حیران وپریشان اور بے یارومددگار تھے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے اہلیانِ وطن کو جو مصیبت کی اس گھڑی میں ہم وطنوں کا درد بانٹنے اور ان کو سنبھالا دینے پورے ملک سے جوق درجوق ان علاقوں تک پہنچے۔ ہم بھی ان دنوں شیرگڑھ ( مردان ) کے دارالعلوم کی دیوار سے متصل “ کاکاخیل ریلیف کیمپ“ کے نام سے ایک خیمہ بستی لگا کر متاثرین کو سنبھالنے میں شب وروز مشغول تھے۔ طلبہ کی چھٹیاں کرادی تھیں اور سارے طلبہ ذوق شوق سے متاثرین سوات کی خدمت پوری دلجمعی سے کررہے تھے۔

‎انہیں دنوں کی بات ہے کہ رات کے پچھلے پہر میں خیمہ بستی کی حفاظت پر مامور ساتھیوں کا جائزہ لینے دارالعلوم سے نکلا۔ خیمہ بستی میں قطار اندر قطار لگے خیموں کے درمیان سے گزرتے ہوئے اچانک ایک انتہائی غمگین آواز نے میرے قدم روک لیے۔ کوئی بڑے درد بھرے لہجے میں پشتو زبان میں اشعار پڑھ رہا تھا.... پاک اور معصوم لہجہ بتارہا تھا کہ کوئی چھوٹی سی بچی ہے جو کوئ گیت گا رہی تھی۔ درد میں ڈوبی آواز کے ہر شعر کے آخر میں آتا تھا: ”کلہ بہ رازے؟“ ( تم کب آؤ گے ؟)

‎مجھے دیکھتے ہی خیمہ کے باہر چارپائی پر لیٹا ایک ادھیڑ عمر شخص اُٹھ کر میرے پاس آیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں بولا “ مولوی صاحب ! میری بیٹی گل سانگہ ہے “ ۔رات کو دیر تک خود بھی جاگتی ہے اور ہمیں بھی جگاتی ہے۔

‎فضل شکور نامی اس شخص کا تعلق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کی کسی بستی سے تھا، مگر اس کا خاندان گزشتہ تیس سال سے سوات میں آباد تھا۔

‎میں فضل شکور کے ساتھ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے دو ہی بچے ہیں۔ سترہ اٹھارہ سال کا فضل سبحان اور اس سے کافی چھوٹی گل سانگہ۔ گل سانگہ کی پیدائش پر اس کی ماں اللہ کو پیاری ہوگئی اور یہ ننھی پری اپنی چچی کی گود میں منتقل ہوگئی۔ یہ بچی غیرمعمولی ذہانت اور شعر وشاعری کے لیے غیرمعمولی موزوں طبیعت لے کر پیدا ہوئی تھی۔ سیکڑوں لوک اشعار ( جن کو پشتو میں ٹپے کہتے ہیں) اس کو یاد تھے۔ اللہ کی شان تھی کہ دونوں بہن بھائیوں میں غیرمعمولی محبت تھی۔ بقول فضل شکور اس کا بیٹا اپنی بہن پر جان چھڑکتا تھا۔ اس نے اپنی چچی سے زیادہ اپنی بہن کو خود پالا تھا۔ سارا دن اس کو لیے لیے پھرتا اور اس کی فرمائشیں پوری کرتا ۔ فضل شکور اپنی محنت مزدوری کے سلسلے میں اکثر گھر سے دور ہوتا تھا۔ گل سانگہ اپنے بھائی کو ”لالہ“ کہتی تھی۔ اب جب بھی رات ہوتی تو یہ لالہ کو یاد کرنے بیٹھ جاتی۔ خود بھی روتی اور باپ کو بھی رلاتی۔

‎میں نے پوچھا آخر لالہ کہاں ہے اور اس نے گل سانگہ کو اتنی تکلیف میں کیوں رکھا ہوا ہے؟
‎فضل شکور اپنا منہ میرے کان کے پاس لاکر رازدارانہ لہجے میں بولا: ” ھغہ بَرہ تلے دے“ (وہ اوپر افغانستان گیا ہوا ہے۔)

‎کہنے لگا میرا گھرانہ مجاہدین کا گھرانہ ہے۔ میرے والد نے روسی فوجیوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ خود میں بھی روسیوں کے خلاف بہت سے محاذوں پر لڑا ہوں۔ اپنی ٹانگ میں پڑی راڈ دکھاتے ہوئے فضل شکور کا سر فخر سے بلند اور لہجہ جذبات سے پُر ہو گیا ۔ جب میرا اکلوتا بیٹا جوان ہوا تو میں نے کہا: ”بچے ! جب تیرے ملک پر ایک کافر نے حملہ کیا تو ہم گھر نہیں بیٹھے تھے ، آج تو پچاس ملکوں کے کافر اکٹھے ہوکر تیرے ملک پر حملہ آور ہوئے ہیں تو کیسے سوات کے مرغزاروں اور چشموں میں بے فکروبے غم رہ سکتا ہے؟“

‎لالہ گھر سے کیا نکلا گل سانگہ کی نیند اُڑگئی۔ لالہ لالہ کہتی گھر بھر میں تلاش کرتی۔ والد کہتا تھا ہم اس کو بتانا نہیں چاہتے تھے کہ لالہ کہاں گیا ہے کہ آخر بچی ہے ، ادھر اُدھر کہتی پھرے گی۔ آخر جب گل سانگہ نے بہت حشر اُٹھایا تو باپ نے اتنا بتایا:

‎“ بیٹا! تمہارے گھر تمہارے وطن میں کافر گھس آئے ہیں لالہ ان کو نکالنے گیا ہے۔“ اب یہ روز انتظار کرتی ہے کہ لالہ آج آئے گا اور آج آئے گا۔“

‎فضل شکور کی باتیں سن کر میں بہت دل گرفتہ اور مغموم وہاں سے اُٹھ کر دارالعلوم آگیا۔ اگلا دن راشن تقسیم کرنے کا تھا۔ اسٹور سے راشن تقسیم ہورہا تھا۔ میں دفتر میں کراچی سے آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی اور اسٹور کا نگران پوچھ رہا تھا: ”استادجی! ایک بچی ہے اپنے بڑے بھائی کا حصہ بھی مانگ رہی ہے،

1 comment

Shaheen
اسلام زندہ ھوتا ھے ہر کربلا کے بعد۔یہ قربانیاں انشااللہ رائیگاں نہیں جائیں گیں