حضرت حسینؓ کے سفرِ کربلا کی ابتداء اور شہادت - مفتی سید عدنان کاکاخیل صاحب حفظہ اللہ
5 comments
Umm E Anas
السلام عليكم
Umm E Anas
ایک چھوٹی سی بات پوچھنی تھی کہ کیا۔نفلی روزہ سحری
Umm E Anas
ایک بات پو چھنا چا ہتی ہوں کہ کیا نفلی روزہ بغیر سحری کے رکھ سکتے ہیں ۔جبکہ میں شوگر کی مریضہ بھی ہوں۔برائے کرم جلدی جواب۔چاہتی ہوں۔آنکھ وقت پر نہیں کھل سکی تو کیا اب نیت کر لوں سحری کئیے بناء۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ. سحری کھانا مستحب ہے، تاہم روزے کے صحیح ہونے کے لیے شرط نہیں، لہذا بغیر سحری کے بھی روزہ درست ہوجائے گا، خواہ فرض روزہ ہو یا نفلی روزہ ہو۔ تاہم نصف النہار شرعی ( یعنی صبح صادق اور غروبِ آفتاب کا بالکل درمیانی وقت) سے پہلے تک نفل روزہ کی نیت کی جاسکتی ہے، بشرط یہ کہ صبح صادق کے بعد روزہ کے منافی کوئی عمل نہ کیا ہو۔ اگر نصف النہار تک بھی روزے کی نیت نہیں کی تو اس کے بعد نیت معتبر نہیں ہوگی اور روزہ شمار نہیں ہوگا۔ آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے : "روزے کے لیے سحری کھانا بابرکت ہے، کہ اس سے دن بھر قوّت رہتی ہے۔ مگر یہ روزے کے صحیح ہونے کے لیے شرط نہیں، پس اگر کسی کو سحری کھانے کا موقع نہیں ملا، اور اس نے سحری کھائے بغیر روزہ رکھ لیا تو روزہ صحیح ہے"۔(ج۴ / ص۵۴۸) الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 377) ''(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل)، فلا تصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى، لا) بعدها، ولا (عندها)، اعتباراً لأكثر اليوم''۔فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144110200760 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
سحری کھانا مستحب ہے، تاہم روزے کے صحیح ہونے کے لیے شرط نہیں، لہذا بغیر سحری کے بھی روزہ درست ہوجائے گا، خواہ فرض روزہ ہو یا نفلی روزہ ہو۔ تاہم نصف النہار شرعی ( یعنی صبح صادق اور غروبِ آفتاب کا بالکل درمیانی وقت) سے پہلے تک نفل روزہ کی نیت کی جاسکتی ہے، بشرط یہ کہ صبح صادق کے بعد روزہ کے منافی کوئی عمل نہ کیا ہو۔ اگر نصف النہار تک بھی روزے کی نیت نہیں کی تو اس کے بعد نیت معتبر نہیں ہوگی اور روزہ شمار نہیں ہوگا۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے :
"روزے کے لیے سحری کھانا بابرکت ہے، کہ اس سے دن بھر قوّت رہتی ہے۔ مگر یہ روزے کے صحیح ہونے کے لیے شرط نہیں، پس اگر کسی کو سحری کھانے کا موقع نہیں ملا، اور اس نے سحری کھائے بغیر روزہ رکھ لیا تو روزہ صحیح ہے"۔(ج۴ / ص۵۴۸)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 377)
''(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل)، فلا تصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى، لا) بعدها، ولا (عندها)، اعتباراً لأكثر اليوم''۔فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144110200760
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن