⚂⚂⚂. ▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁ ✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮ ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ *■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■* ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ ★ *پوسٹ- 29_* ★ ─━━━════●■●════━━━─ *❀__ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے وعظ پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ایمان قبول کرنا:- سعد وہاں پہنچے، دیکھا کہ مصعب رضی اللہ عنہ و اسد رضی اللہ عنہ دونوں اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں، سعد رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ اسید رضی اللہ عنہ نے مجھے ان کی باتیں سننے کے لیے بھیجا ہے، یہ خیال آتے ہی انہیں گالیاں دینے لگے اور اسد رضی اللہ عنہ کو یہ کہا کہ اگر میرے تمہارے درمیان قرابت نہ ہوتی تو تمہاری کیا مجال تھی کہ ہمارے محلے میں چلے آتے،* *❀_ اسد رضی اللہ عنہ نے مصعب رضی اللہ عنہ سے کہا - دیکھو یہ بڑے سردار ہیں اور اگر ان کو سمجھا دو تو پھر کوئی دو آدمی بھی تمہارے مخالف نہ رہ جائیں گے _, مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے سعد سے کہا - آئیے بیٹھ جائیے، کوئی بات کریں، ہماری بات پسند آئے تو قبول فرمائیں ورنہ انکار کر دیجئے _"،*
*❀_ سعد رضی اللہ عنہ حربہ رکھ کر بیٹھ گئے، مصعب رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے اسلام کے حقیقت بیان کی اور قرآن مجید بھی سنایا، آخر سعد رضی اللہ عنہ نے بھی وہی سوال کیا جو اسید رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، الغرض سعد رضی اللہ عنہ اٹھے، غسل کیا، کپڑے دھوئے، کلمہ پڑھا، نفل ادا کیے اور ہتھیار لے کر اپنی مجلس میں واپس آئے، آتے ہی اپنے قبیلے کے لوگوں کو پکار کر کہا - اے بنی عبد الاشہل ! تم لوگوں کی میرے بارے میں کیا رائے ہے ؟ سب نے کہا کہ تم ہمارے سردار ہو، تمہاری رائے، تمہاری تلاش بہتر اور اعلٰی ہوتی ہے، سعد رضی اللہ عنہ بولے- سنو خواں کوئی مرد ہے یا عورت، میں اس سے بات کرنا حرام سمجھتا ہوں جب تک کہ وہ اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے _,* *❀_ ان کے کہنے کا یہ اثر ہوا کہ بنی عبدالاشہل میں شام تک کوئی مرد اسلام سے خالی نہ رہا اور تمام قبیلہ ایک دن میں مسلمان ہو گیا، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی تعلیم سے اسلام کا چرچا اسی طرح انصار کے تمام قبیلوں میں پھیل گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے سال 13 نبوت کو تہتر (73) مرد دو (2) عورتیں یثرب کے قافلے میں مل کر مکہ آئے، ان کو یثرب کے اہل ایمان نے اس لیے بھی بھیجا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر میں آنے کی دعوت دیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منظوری حاصل کریں _,*
*❀_ یہ راستبازوں کا گروہ اسی متہرک مقام پر جہاں دو سال سے اس شہری یثرب کے مشتاق حاضر ہوا کرتے تھے، رات کی تاریکی میں پہنچ گیا اور اللہ کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے تایا عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیے ہوئے وہاں جا پہنچے،(طبری-244)* *❀_ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ( جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے) اس وقت ایک بات کام کی کہی، انہوں نے کہا- لوگو تمہیں معلوم ہے کہ قریش مکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن ہیں، اگر تم ان سے کوئی عہد و قرار کرنے لگو تو پہلے سمجھ لینا کہ یہ ایک نازک اور مشکل کام ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد و پیمان سرخ و سیاہ لڑائیوں کو دعوت دینا ہے، ( سرخ و سیاہ لڑائی سے مراد سخت خونریز لڑائی ہے اور سیاہ لڑائی سے مراد تاریک انجام والی لڑائی مراد ہوتی ہے) جو کچھ کرو سوچ سمجھ کر کرو ورنہ بہتر ہے کہ کچھ بھی نہ کرو_,"*
*❀_ ان راستبازوں نے عباس رضی اللہ عنہ کو کچھ بھی جواب نہ دیا، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ارشاد فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اللہ کا کلام جو اللہ کا پیغام انسان کی طرف ہے، پڑھ کر سنایا، جس کے سننے سے وہ ایمان و ایقان کے نور سے بھرپور ہوگئے، اب سب لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی ہمارے شہر میں چل کر بسیں تاکہ ہمیں پورا پورا فیض حاصل ہو سکے،*
*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-_ کیا تم دین حق کی اشاعت میں میری پوری پوری مدد کرو گے؟ اور جب میں تمہارے شہر میں جا بسوں اور میرے ساتھیوں کی حمایت اپنے اہل وعیال کی مانند کرو گے ؟ ایمان والوں نے پوچھا:- ایسا کرنے کا ہم کو معاوضہ کیا ملے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- بہشت (جو نجات اور اللہ کی خوشنودی کا محل ہے )* *❀_ ایمان والوں نے عرض کیا:- اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو ہماری تسلی فرما دیجئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو کبھی چھوڑ تو نہ دیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- میرا جینا، میرا مرنا تمہارے ساتھ ہوگا_,* *"_ اس آخری فکرے کا سننا تھا کہ عاشقان صداقت عجب سرور و نشاط کے ساتھ جانثاری کی بیعت اسلام کرنے لگے، براء بن معرور رضی اللہ عنہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے اس شب سب سے پہلے بیعت کی،*