⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-23_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ اب قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ سے زیادہ ستانا شروع کردیا، ایک دفعہ ایک شریر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر کیچڑ پھینک دی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح گھر میں داخل ہوئے، نبی صل اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اٹھی، وہ سر دھلاتی جاتی تھی اور روتی جاتی تھی، نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- پیاری بیٹی ! تم کیوں روتی ہو، تیرے باپ کی حفاظت اللہ خود فرمائے گا _,*

*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغ کے لیے مختلف قبائل کی جانب سفر کرنا:- اگرچہ ابوطالب کا سہارا جاتا رہا، اگرچہ خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسی بیوی جو مصیبتوں اور تکلیفوں میں نہایت غم گسار تھیں، جدا ہو گئیں، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اب زیادہ جوش سے وعظ کا کام شروع کر دیا، چنانچہ تھوڑے ہی دنوں بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے اور بیرونی قبائل کو وعظ کے لئے تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سفر میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے، مکہ اور طائف کے درمیان جتنے قبیلے تھے سب کو وعظ سناتے، توحید کی منادی کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیادہ پا طائف پہنچے،*
*❀_طائف میں بنو ثقیف آباد تھے، سرسبز ملک اور سرد پہاڑ پر رہنے کی وجہ سے ان کے غرور کی کوئی حد نہ تھی, عبدیالیل، مسعود، حبیب تینوں بھائی وہاں کے سردار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے انہیں سے ملے اور انہیں اسلام کی دعوت فرمائی،*

*❀_ ان میں سے ایک بولا میں کعبہ کے سامنے داڑھی منڈوا دوں اگر تجھے اللہ نے رسول بنایا ہو_, دوسرا بولا :- کیا اللہ کو تیرے سوا اور کوئی بھی رسول بنانے کو نہ ملا، جسے چھڑنے کی سواری بھی میسر نہیں، اس نے رسول بنانا تھا تو کسی حاکم یا سردار کو بنایا ہوتا_, تیسرا بولا کہ میں تجھ سے کبھی بات ہی نہیں کروں گا, کیونکہ اگر تو اللہ کا رسول ہے جیسا کہ تو کہتا ہے تب تو یہ بہت خطرناک بات ہے کہ میں تیرے کلام کو رد کروں اور اگر تو اللہ پر جھوٹ بولتا ہے تو مجھے شایان نہیں کہ تجھ سے بات کروں_,*
*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- اب میں تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ اپنے خیالات اپنے ہی پاس رکھو, ایسا نہ ہو کہ یہ خیالات دوسرے لوگوں کے ٹھوکر کھانے کا سبب بن جائیں_, نبی صل اللہ علیہ وسلم نے وعظ کہنا شروع فرمایا تو ان سرداروں نے اپنے غلاموں اور شہر کے لڑکوں کو سکھلا دیا، وہ لوگ وعظ کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتنے پتھر پھینکتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لہو میں تربتر ہو جاتے، خون بہہ بہہ کر جوتے میں جم جاتا اور وضو کے لیے پاؤں سے جوتا نکالنا مشکل ہو جاتا،*

*❀_ایک دفعہ بدمعاشوں نے نبی صل اللہ علیہ وسلم کو اس قدر گالیاں دیی، تالیاں بجائیں، چیخیں لگائیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکان کے احاطے میں جانے پر مجبور ہوگئے، یہ جگہ عتبہ و شیبہ فرزندان ربعیہ کی تھی، انہوں نے دور سے اس حالت کو دیکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ترس کھا کر اپنے غلام عداس کو کہا کہ ایک پلیٹ میں انگور رکھ کر اس شخص کو دے آؤ، غلام نے انگور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیے، نبی صل اللہ علیہ وسلم نے انگوروں کی طرف ہاتھ بڑھایا اور زبان سے فرمایا:- "بسم اللہ" اور پھر انگور کھانا شروع کیے،*

*❀_ اداس نے حیرت سے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور پھر کہا :- یہ ایسا کلام ہے کہ یہاں کے باشندے نہیں بولا کرتے_,*
*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- تم کہاں کے ہو اور تمہارا مذہب کیا ہے ؟ عداس نے جواب دیا:- میں عیسائی ہوں اور نینویٰ کا باشندہ ہوں_, نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- کیا تم مرد صالح یونس بن متی علیہ السلام کے شہر کے باشندے ہوں_, عداس نے کہا:- آپ کو کیا خبر ہے کہ یونس بن متی علیہ السلام کون تھے اور کیسے تھے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- وہ میرے بھائی ہیں، وہ بھی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں_,*.
*❀_ عداس یہ سنتے ہی جھک پڑا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر، ہاتھ، قدم چوم لیے ‌_, عتبہ و شیبہ نے دور سے غلام کو ایسا کرتے دیکھا اور آپس میں کہنے لگے لو غلام تو ہاتھوں سے نکل گیا, جب عداس اپنے آقا کے پاس لوٹ کر گیا تو انہوں نے کہا: کم بخت تجھے کیا ہوگیا تھا کہ اس شخص کے ہاتھ پاؤں سر چومنے لگ گیا تھا، عداس نے کہا:- حضور عالی! آج اس شخص سے بہتر ‌روئے زمین پر کوئی بھی نہیں، اس نے مجھے ایسی بات بتائی جو صرف نبی ہی بتلا سکتا ہے _, انہوں نے عداس کو ڈاٹ دیا کہ خبردار کہیں اپنا دین نہ چھوڑ بیٹھنا، تیرا دین تو اس کے دین سے بہتر ہے _,*
*"(_ طبری -1/75)*

Comments

Be the first to add a comment