گزشتہ روز کابل یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کی ذاتی اشیاء اکٹھی کی جا رہی تھیں۔ ہر شہید طالب علم کے فون پر بے شمار کالز آ رہی تھیں۔ ایک طالبہ کے سیل فون پر ایک سو بیالیس بار کال کی گئی تھیں۔ پھر آخر میں ایک میسج آیا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔
"کجا ہستی جان پدر"
کہاں ہو بابا کی جان؟ 😢
#kabuluniversity #kabuluniversityattack #kabulattack

Comments

Be the first to add a comment