⚂⚂⚂. ▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁ ✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮ ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ *■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■* ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙ ★ *پوسٹ-28_* ★ ─━━━════●■●════━━━─ *❀__ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ:- جب یہ لوگ واپس جانے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعلیم کے لیے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ساتھ کر دیا، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ امیر گھرانے کے لاڈلے بیٹے تھے، جب گھوڑے پر سوار ہو کر نکلتے تو آگے پیچھے غلام چلا کرتے تھے، بدن پر دو سو درہم سے کم کی پوشاک کبھی نہیں پہنتے، پھر جب ان کو اسلام کے طفیل روحانی عیش حاصل ہوا تب ان جسمانی آرائش اور نمائش کو انہوں نے بالکل چھوڑ دیا تھا، جن دنوں یہ مدینہ میں دین حق کی منادی کرتے اور تبلیغ کیا کرتے تھے، ان دنوں ان کے کندھے پر صرف کمبل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا تھا، جسے اگلی طرف سے کیکر کے کانٹوں سے اٹکا لیا کرتے تھے_,"*
*❀_ بیعت عقبہ ثانیہ :- مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے گھر جاکر اترے تھے اور ان کو مدینے والے "المقرئ" (پڑھانے والا استاد ) کہا کرتے تھے، ایک دن مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ و اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور چند مسلمان " بیرمرق " پر جمع ہوئے، یہ غور کرنے کے لیے کہ نبی عبدالاشہل اور بنی ظفر میں کیوں کر اسلام کی منادی کی جائے_,"* *❀_ سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر ان قبائل کے سردار تھے اور ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے، انہیں بھی خبر ہوئی، سعد بن معاذ نے اسید بن حضیر سے کہا- تم کس غفلت میں پڑے ہو دیکھو یہ دونوں ہمارے گھروں میں آکر ہمارے بیوقوفوں کو بہکانے لگے، تم جاؤ، انہیں جھڑک دو اور کہہ دو کہ ہمارے محلے میں پھر کبھی نہ آئیں، میں خود ایسا کرتا، مگر اس لیے خاموش ہوں کہ اسعد میری خالہ کا بیٹا ہے _,"*
*❀_ اسید بن حضیر اپنا ہتھیار لے کر روانہ ہوئے، اسعد رضی اللہ عنہ نے مصعب رضی اللہ عنہ کو کہا - دیکھو یہ قبیلے کا سردار آ رہا ہے، اللہ کرے کہ وہ تمہاری بات مان جائے، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر وہ آکر بیٹھ گیا تو میں اس سے ضرور کلام کروں گا، اتنے میں اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور کھڑے کھڑے گالیاں دیتے رہے اور یہ بھی کہا کہ ہمہارے احمق نادان لوگوں کو پھسلا نے آئے ہو _,* *❀_مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا:- کاش آپ بیٹھ کر کچھ سن لیں، اگر پسند آئے، قبول فرمائیں، نہ پسند ہو تو اسے چھوڑ جائیں، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا- خیر کیا مضائقہ ہے، مصعب رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ اسلام کیا ہے اور پھر انہیں قرآن مجید بھی پڑھ کر سنایا، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سب کچھ چپ چاپ سنا، بالآخر کہا- ہاں ! یہ بتلاؤ کہ جب کوئی تمہارے دین میں داخل ہونا چاہتا ہے تو تم کیا کرتے ہو ؟* *❀_ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا :- نہلا کر، پاک کپڑے پہنا کر کلمہ شہادت پڑھا دیتے ہیں اور دو رکعت نفل پڑھوا دیتے ہیں_, اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اٹھے، غسل کیا، کپڑے دھوئے، کلمہ شہادت پڑھا اور نفل ادا کیے، پھر کہا - میرے پیچھے ایک اور شخص ہے، اگر تمہارا پیروں ہو گیا تو پھر کوئی تمہارا مخالف نہ رہے گا اور میں جا کر ابھی تمہارے پاس بھیج دیتا ہوں_,"* *❀_ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ چلے گئے، ادھر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے انتظار میں تھے، دور سے چہرہ دیکھتے ہی بولے - دیکھو اسید کا وہ چہرہ نہیں ہے جو جاتے وقت تھا، جب اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ آ بیٹھے تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بولے - میں نے انہیں سمجھا دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہاری منشا کے خلاف کچھ نہ کریں گے, مگر وہاں تو ایک اور حادثہ پیش آیا، بنو حارثہ وہاں آگئے اور اسد بن زرارہ کو اس لیے قتل کرنے پر آمادہ ہیں کہ وہ تمہارا بھائی ہے_,"*
*❀_ یہ سن کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ غصہ میں بھر گئے اور اپنا حربہ سنبھال کر کھڑے ہو گئے، انہیں ڈر تھا کہ بنو حارثہ ان کے بھائی کو نہ مار ڈالے، انہوں نے چلتے وقت یہ بھی کہا کہ اسید تم تو کچھ بھی کام نہ بنا کے آئے _,*
*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*