⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-30_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے 12 نقیب :- اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے بارہ اشخاص کا انتخاب کیا اور ان کا نام نقیب رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ جس طرح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اپنے لیے بارہ شخصوں کو چن لیا تھا اسی طرح میں تمہیں انتخاب کرتا ہوں، تاکہ اہل یثرب میں جا کر دین کی اشاعت کرو، مکہ والوں میں میں خود یہ کام کروں گا_,*

*❀_ ان کے نام یہ ہیں:- قبیلہ بنو خزرج کے 9 - اسد بن زرارہ رضی اللہ عنہ, رافع بن مالک رضی اللہ عنہ، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ( یہ تینوں عقبہ اولیٰ میں بھی تھے) سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ، منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، براہ بن معرور رضی اللہ عنہ، عبداللہ عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ،*
*"_ قبیلہ اوس کے 3 - اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ، سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ، ابوالہشیم بن تیہان رضی اللہ عنہ،*

*❀_ عقبہ ثانیہ کی بیعت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مسلمانوں کو جو مکہ سے باہر نہ گئے تھے لیکن جن پر اب اتنے ظلم و ستم ہونے لگے تھے کہ پیارا وطن ان کے لیے آگ کا پہاڑ بن گیا، یثرب چلے جانے کی اجازت فرمادی، ان ایمان والوں کو گھربار، قریبی رشتے دار و اقارب ، باپ، بھائی، زن و فرزند کے چھوڑنے کا ذرا بھی غم نہ تھا بلکہ خوشی یہ تھی کہ یثرب جاکر اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت پوری آسانی سے کر سکیں گے_,"*

*❀_ ہجرت کرنے والوں اور گھر بار چھوڑ کر جانے والوں کو قریش کی سخت مزاحمت کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا، صہیب رومی رضی اللہ عنہ جب ہجرت کر کے جانے لگے تو قریش نے انہیں آ گھیرا، کہا - صہیب جب تو مکہ آیا تھا تو مفلس و قلاش تھا، یہاں ٹھہر کر تو نے ہزاروں کمائے، آج یہاں سے جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ سب مال و زر لے کر چلا جائے گا، یہ تو کبھی نہیں ہونے والا، صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا- اچھا اگر میں اپنا سارا مال و متاع تمہیں دے دوں تب تم مجھے جانے دو گے ؟ کہا- ہاں, حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے سارا مال انہیں دے دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قصہ سن کر فرمایا کہ اس سودے میں صہیب رضی اللہ عنہ نے نفع کمایا _," ( سیرت ابن ہشام -168)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*

Comments

Be the first to add a comment